tele com 0

ٹیلی کام کمپنیز نے صارفین کو سہولت پہنچانے کیلئے حکومت سے ٹیکسز کی عارضی معافی کا مطالبہ کردیا

ٹیلی کام کمپنیز نے صارفین کو سہولت پہنچانے کیلئے حکومت سے ٹیکسز کی عارضی معافی کا مطالبہ کردیا
کراچی: پاکستان میں لاک ڈاؤن کے باعث صارفین کو بیلنس لوڈ اوردیگر ادائیگیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف صارفین بلکہ ٹیلی کام کمپنیز ن بھی کافی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔اس حوالے سے صارفین اور متعلقہ حلقوں سمیت ٹیلی کام کمپنیوں نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے عارضی طور پر ود ہولڈنگ ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس معطل کیا جائے۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے حکام کے مطابق ان ٹیکسوں کے خاتمے سے صارفین پر ڈیٹا کا بوجھ کم ہوگا جو اضافی پیسے خرچ کئے بغیر زیادہ انٹرنیٹ ڈیٹا استعمال کر سکیں گے.

ٹیلی کام سیکٹر میں ذرائع کے مطابق ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران موبائل فون کی خدمات کے استعمال میں 10 فیصد سے زائد کمی آچکی ہے۔ دیگر انڈسٹریز کی طرح ٹیلی کام سیکٹر بھی متاثر ہورہا ہے کیونکہ انکی آمدن میں بھی کمی آرہی ہے.

تاہم ملکی آبادی کے ایک محدود طبقے میں موبائل براڈ بینڈ اور ڈیٹا کا استعمال زیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ گھر میں ہی دفتری امور سرانجام دے رہے ہیں، ویڈیو کانفرنسز میں شرکت کررہے ہیں جبکہ طالب علموں کی آن لائن کلاسز ہو رہی ہیں.

ٹیلی کام آپریٹرز کواس خدمات میں ٹیکس کی چھوٹ دینے سے کسی حد تک نقصان کی تلافی ہوسکتی ہے تاہم اس سے عوام کو بھرپور ریلیف مل جاے گا کیونکہ وہ موجودہ اخراجات میں زیادہسے زیادہ خدمات حاصل کرسکیں گے۔

موبائل فون صارفین کو کارڈ کے ری چارج یا لوڈ پر 12.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ پھر مختلف صوبوں میں کالز، ایس ایم ایس اور متعلقہ پیکجز پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

سال 2018 میں حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات پر ود ہولڈنگ ٹیکس معطل کردیا تھا جس کے نتیجے میں اس عرصے کے دوران موبائل فون کی خدمات کا استعمال بڑھ گیا اور موبائل آپریٹرز کے ریونیو میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا۔

ٹیلی کام سیکٹر کے ایک سینئرنے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں بھی ٹیکسز کی معطلی کی ضرورت ہے جس سے عوام کو ریلیف ملےگا، انکے بیلنس کی حد بڑھ جائے گی، کیونکہ ملک کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے موبائل آپریٹر کی ریٹیل دکانوں کو کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔

ٹیلی کام سیکٹر کے سینئرنے کہا کہ ٹیکسز کے علاوہ حکومت کو موبائل آپریٹرز کے لئے اسپیکٹرم کی دستیابی بھی یقینی بنانی چاہیئے تاکہ وہ بلاتعطل موبائل براڈ بینڈ فراہم کرسکیں اور صارفین کو تیزرفتار انٹرنیٹ مل سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں